حوزہ نیوز ایجنسی | مہدویت اور اس کی تعلیمات کا فرد اور معاشرے پر گہرا اور مؤثر اثر کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ بات بالکل واضح اور ناقابلِ انکار ہے کہ مسلمان—بالخصوص شیعیانِ اہلِ بیت علیهمالسلام—اس بنیادی عقیدے پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں اور اسے اپنے عقائد میں شمار کرتے ہیں۔
یہ ایک مسلّم حقیقت ہے کہ جس قدر کوئی عقیدہ زیادہ گہرا، حقیقت کے قریب اور دلوں میں راسخ ہو، اسی قدر مفاد پرست عناصر اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ مہدویت کی تعلیمات بھی اپنی غیر معمولی کشش اور عوامی دلوں میں راسخ نفوذ کے سبب، نااہل اور گمراہ افراد کی غلط استفادهجویی کا زیادہ شکار بنی ہیں۔ اس سلسلے میں مہدویت کے باب میں پیدا ہونے والی گمراہ فرقہ بندیوں کی طویل تاریخ اس دعوے پر روشن گواہ ہے۔ ان انحرافات اور ان کے اسباب کا جائزہ لینا، آئندہ دوبارہ ایسی لغزشوں میں مبتلا ہونے سے بچنے میں نہایت مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
نیابت کا جھوٹا دعویٰ؛ بڑے انحرافات کی ابتدا
امام حسن عسکری علیہالسلام کی شہادت اور غیبتِ صغریٰ کے آغاز کے بعد، چونکہ لوگوں کا امام معصوم سے براہِ راست رابطہ منقطع ہو گیا تھا، اس لیے نوّابِ خاص نے شیعیانِ اہلِ بیت علیهمالسلام کی راہنمائی کے لیے نہایت سنجیدہ اور وسیع کوششیں شروع کیں۔ انہوں نے شیعہ معاشرے کو انتشار سے محفوظ رکھا اور ان کی دینی قیادت سنبھالی۔
اسی دوران، بعض کمزور ایمان اور کج فکر افراد نے مختلف مقاصد کے حصول کے لیے، جھوٹے طور پر امامِ غائب کی نیابت کا دعویٰ کیا۔
ان جھوٹے دعوؤں کے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:
1۔ سستیِ ایمان
ایسے باطل دعوؤں کا ایک اہم سبب دینی عقائد کی کمزوری ہے؛ کیونکہ مضبوط ایمان رکھنے والا شخص کبھی بھی معصوم پیشوا کے فرمان—یعنی اس کے مقرر کردہ سفیروں کی پیروی—کے مقابلے میں گمراہی کا راستہ اختیار نہیں کرتا۔
ایسے ہی افراد میں شلمغانی کا نام آتا ہے، جس نے کمزور ایمان کے باعث غلط دعوے کیے۔ وہ امام حسن عسکری علیہالسلام کے اصحاب میں سے تھا اور بغداد میں اپنے زمانے کے علماء، کاتبوں اور محدثین میں شمار ہوتا تھا۔ اس کی متعدد کتابیں تھیں جن میں اہلِ بیت علیهمالسلام کی روایات کثرت سے موجود تھیں۔
(رجال نجاشی، ج ۲، ص ۲۳۹)
لیکن جب اس نے انحراف اور فکری ارتداد کا راستہ اختیار کیا تو اپنی فکر، عقیدہ اور کردار میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ، روایات میں بھی تحریف کرنے لگا؛ جو چاہتا بڑھا دیتا اور جو چاہتا کم کر دیتا۔ نجاشی نے اپنی کتابِ رجال میں اس کے اس انحراف کی صراحت کی ہے۔
(شیخ طوسی، الفهرست، ص ۳۰۵؛ رجال نجاشی، ح ۲، ص ۲۹۴)
2۔ مال امام کا لالچ
غیبتِ صغریٰ کے دور میں بعض افراد نے اس غرض سے نیابت اور بابیت کا دعویٰ کیا کہ امام زمانہ علیہالسلام کے اموال کو ان کے حقیقی وکیل اور نمائندے تک پہنچانے سے بچ سکیں۔
ان میں سے ایک ابوطاہر محمد بن علی بن بلال تھا، جس نے دولت جمع کرنے کے لیے بابیت کا دعویٰ کیا۔ ابتدا میں وہ امام حسن عسکری علیہالسلام کے نزدیک قابلِ اعتماد تھا اور ان سے روایات بھی نقل کرتا تھا؛ لیکن بتدریج نفس پرستی کے باعث راہِ انحراف پر چل پڑا اور خاندانِ وحی کی طرف سے موردِ مذمت قرار پایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ حضرت مہدی عجلاللهتعالیفرجهالشریف کا وکیل ہے، دوسرے نائب کی نیابت کا انکار کیا اور وہ اموال جنہیں امام تک پہنچانا تھا، ان میں خیانت کی۔
(کتاب الغیبة، ص 400)
3۔ شہرت کی خواہش
شہرت پسندی بھی خرافی عقائد اور خود ساختہ مذاہب کے وجود میں آنے کا ایک نہایت اہم سبب ہے۔ بڑا بننے اور خودنمائی کی خواہش اخلاقی طور پر ایک مذموم صفت ہے جو انسان کو خطرناک راستوں پر لے جاتی ہے۔
4۔ سیاسی محرکات
بابیت کے جھوٹے مدعیوں کے وجود میں آنے کا ایک اور سبب سیاسی محرکات ہیں۔ دشمنانِ دین، کبھی براہِ راست اور کبھی بالواسطہ—شیعہ عقیدے کو کمزور کرنے اور انہیں انتشار میں مبتلا کرنے کے لیے—بعض افراد کو ایسے دعوؤں پر اکساتے رہے ہیں۔
اسی طرح، بعض عناصر کو اپنے مقاصد کے مطابق تربیت دے کر، انہیں بابیت کے دعوے کا حکم دیا گیا اور ہر طرح کے وسائل سے ان کی مدد کی گئی۔ اس کی نمایاں مثال سید علی محمد شیرازی (۱۲۳۵ھ–۱۲۶۶ھ) ہے، جو بابیت کے بانی تھے اور اپنے پیروکاروں میں “باب” کے نام سے مشہور ہوئے۔
جاری ہے…
ماخوذ از کتاب: «درسنامۂ مهدویت»، تألیف خدامراد سلیمیان — (مختصر ترمیم کے ساتھ)









آپ کا تبصرہ